ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل حاجی زادہ نےامریکی جاسوس طیارے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جاسوس طیارہ بہت ہی اہم طیارہ ہے اور اب یہ ایرانی قوم کا سرمایہ شمار ہوتا ہے اور اس کے بارے میں ہم زیادہ تفصیلات کے ساتھ اطلاعات فاش نہیں کرسکتے انھوں نے کہا کہ میں یہاں پر 4 کوڈ فاش کرتا ہوں جس سے امریکی سمجھ جائیں گے کہ ایرانی فوجی ماہرین کو امریکی جاسوس طیارے کی اطلاعات پر کتنا تسلط حاصل ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس جاسوس مجموعہ کےطیارےنے کیلیفورنیا میں اکتوبر 2010 ء میں بعض فنی کام انجام دیئے پھر اس نے نومبر 2010 میں قندھار میں پرواز کی اور اس دور میں اسے بظاہر بعض فنی مشکلات کا سانما تھا جسے برطرف کرنے میں وہ ناکام رہےہیں حاجی زادہ نے کہا کہ اس طیارے نےدسمبر 2010 ء میں دوبارہ لاس انجلس میں پرواز کی اور فنی اشکالات کو برطرف کرنے کے لئے اسے قریبی ہوئی اڈے پر منتقل کیا گيا اور وہاں پر اس کےسنسرز سسٹم کو دوربارہ ٹسٹ کیا گيا۔
ایرانی سپاہ کی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اس جاسوس طیارے میں امریکہ کی گذشتہ 50 برس کی پیشرفتہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گيا ہے اور اس میں امریکی ایف 35 طیاروں کی پیشرفبتہ ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔ حاجی زادہ نے کہا کہ ایرانی ماہرین امریکی جاسوس طیارے کی تمام اطلاعات پر مسلط ہیں اور انھوں نے تمام اطلاعات حاصل کرلی ہیں اور ایران نے اس ماڈل پر کام بھی شروع کردیا ہے انھوں نے کہا کہ یہ اقدام ایرانی فوجی ماہرین کی کامیابی اور امریکہ کے لئے زبردست دھچکہ ہے۔ ......./169